محبّت، ضرورت اور بلھے شاہ

Shehryar Khawar

baba%20bulleh%20shah%20mazar2-1

محبّت، ضرورت اور بلھے شاہ

اس کی شادی ہوے دس پندرہ دن گزر چکے تھے لیکن میں اب بھی حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کر پایا تھا. اور حقیقت یہ تھی کے ہماری محبّت اور وہ بےنام سا رشتہ جس نے  ہمیں تین سال تک جوڑے رکھا تھا، کب کا ختم ہو چکا تھا. وہ کسی اور کی ہو چکی تھی اور میں اب بھی اکیلا تھا.شاید اس کا جانا مجھ پے اتنا گراں نا گزرا تھا جتنا میرا دل اس کی آخری دنوں کی بے رخی پے ٹوٹا تھا. کبھی اپنے آپ کو سمجھاتا، کبھی اس کی طرف سے وکیل بن جاتا. کبھی غصّہ، کبھی غم، کبھی محبّت ، کبھی نفرت. ایک عجیب عذاب میں جان پھنس گیئ تھی.

کچھ انہیں دنوں کی بات تھی. اکتوبر کے اوائل کا ایک گرمخشک دن تھا. لاہور ابھی تک گرمی کی لپیٹ میں تھا. صبح ہی سے دل میں بےچینی تھی…

View original post 4,230 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s