شبانہ کھسرا

Shehryar Khawar

6143216851_3a709011c6_m

جب ہم چند اکیلے ویران لوگ شبانہ کو دفن کر رہے تھے تو اچانک بارش شروع ہو گیئ.  نا بادل گرجے نا بجلی کڑکی، بس یک دم ہلکی ہلکی پھوار پڑنی شروع ہو گیئ. مجھے پتا بھی نہیں چلا کے کب بارش ختم ہوئی اور کب میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوے. ہوش تب آیا جب قبر کی مٹی کو پیار سے سہلاتے میرے ہاتھ کیچڑ سے لت پت ہوگئے. سب بہت دیر ہوئی چلے گئے تھے. میں قبرستان میں اکیلا تھا. میں نے اپنے ہاتھوں پر جمے کیچڑ کو غور سے دیکھا. سوکھتے کیچڑ میں دراڑیں پڑ رہی تھیں، ٹوٹی پھوٹی، شکستہ، بالکل ویسی جیسی شبانہ کے میلے ہاتھوں پر لکیریں تھیں. یوں لگتا تھا کے جیسے قسمت کی دیوی لکیریں کھینچتی کھینچتی دم توڑ گیئ ہو. مجھے خود کبھی ہاتھ کی لکیروں کی بتائی داستانوں پر یقین نہیں آیا مگر شبانہ کی زندگی دیکھ کر لگتا تھا کے…

View original post 5,451 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s