موسیٰ خان فرام ماسکو

Shehryar Khawar

2015-01-19 15.49.37

 

میں جنوری کی اس خنک اور اداس دوپہر کو جب کوئٹہ ائیرپورٹ پر اترا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے بلوچستان کا یہ سفر مجھ پر آگہی کے نۓ دروازے کھول دے گا.  ائیرپورٹ پر  مجھے لینے کے لئے گاڑی موجود تھی. بوڑھے ڈرائیور سے میں واقف تو نہیں تھا مگر جھریوں سے جھانکتی مسکراہٹ نے مجھے اجنبیت کا احساس نا ھونے دیا

سلام صاب’، اس نے کچھ یوں گرم جوشی سے میرا استقبال کیا کے سفر کی ساری کلفت دھل گیئ. میں نے بوڑھے ڈرائیورپر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی. دبلا پتلا جسم، سرپر کابلی ٹوپی، سفید شلوار قمیض، کالی واسکٹ اورپہاڑوں پر پڑی برف کی سفیدی لئے لمبی داڑھی. ساٹھ یا پھر پینسٹھ کا سن تھا مگر چہرے پے بلا کی شگفتگی اور گدلایی سرمئی آنکھوں میں ایک عجیب چمک. سامان ڈکّی میں رکھ کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور ائیرپورٹ کے گیٹ…

View original post 5,686 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s