پنوں مراثی

Shehryar Khawar

the_harmonium_player_by_matadurga-d6yy80x

تھکی ہوئی چیل نے اپنے پر سمیٹے اورگھونسلے کا رخ کرنے سے پہلے ڈوبتے سورج کی جانب آخری نظر ڈالی. اس کے پروں تلے پھیلتی تاریکی کی چادر بہت تیزی سے شہر ملتان کے سنہرے گنبد اورمٹیالے مینار نگل رہی تھی. سردیوں کی وہ گہری شام بہت اداس تھی اور اک اک کرتے ٹمٹماتے ستارے اس کے حزن کی مانگ میں افشاں بھرتے نظر آ رہے تھے. دن اور رات کا اختلاط بس تمام ہی ہوا چاہتا تھا. چیل نے زمین پر چمکتی روشنیوں کے ایک جھرمٹ پر نظر ڈالی جہاں سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا اور بھنے گوشت کی سوندھ بھی. ایک لمحے کو ڈبکی لگانے کا خیال آیا مگر دور گھونسلے میں بلکتے بچوں کا سوچ کر اڑتی چلی گئ

روشنیاں رشید خان کونسلر کی حویلی پر برقی قمقموں کی لٹکتی جھالروں کی تھیں. جشن نا صرف حالیہ الیکشن کی جیت بلکہ کونسلر کی تیسری شادی کا…

View original post 8,771 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s